سر کوئی پتھر سے مارے بھی تو مارے اس طرح

دیوان چہارم غزل 1375
مر گیا فرہاد جیسے مرتے بارے اس طرح
سر کوئی پتھر سے مارے بھی تو مارے اس طرح
ٹکڑے ٹکڑے کر دکھایا آپ کو میں نے اسے
یعنی جی مارا کرو آئندہ پیارے اس طرح
مست و بے خود ہر طرف پہروں پھرا کرتے ہو تم
حیف ہے آتے نہیں ٹک گھر ہمارے اس طرح
عشق کی کہیے طرح کیا وامق و فرہاد و قیس
بے کسانہ مر گئے وے لوگ سارے اس طرح
جو عرق تحریک میں اس رشک مہ کے منھ پہ ہے
میر کب ہووے ہیں گرم جلوہ تارے اس طرح
میر تقی میر