سر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک

دیوان چہارم غزل 1420
وحشت ہے ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
سر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک
مرتے ہی سنا ان کو جنھیں دل لگی کچھ تھی
اچھا بھی ہوا کوئی اس آزار سے اب تک
جب سے لگی ہیں آنکھیں کھلی راہ تکے ہیں
سوئے نہیں ساتھ اس کے کبھو پیار سے اب تک
آیا تھا کبھو یار سو مامول ہم اس کے
بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک
بدعہدیوں میں وقت وفات آن بھی پہنچا
وعدہ نہ ہوا ایک وفا یار سے اب تک
ہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالم
کرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک
کچھ رنج دلی میر جوانی میں کھنچا تھا
زردی نہیں جاتی مرے رخسار سے اب تک
میر تقی میر