سختیاں جو میں بہت کھینچیں سو دل پتھر ہوا

دیوان دوم غزل 752
پندگو مشفق عبث میرا نصیحت گر ہوا
سختیاں جو میں بہت کھینچیں سو دل پتھر ہوا
گاڑ کر مٹی میں روے عجز کیا ہم ہی موئے
خون اس کے رہگذر کی خاک پر اکثر ہوا
اب اٹھا جاتا نہیں مجھ پاس پھر ٹک بیٹھ کر
گرد اس کے جو پھرا سر کو مرے چکر ہوا
کب کھبا جاتا تھا یوں آنکھوں میں جیسا صبح تھا
پھول خوش رنگ اور اس کے فرش پر بچھ کر ہوا
کیا سنی تم نے نہیں بدحالی فرہاد و قیس
کون سا بیمار دل کا آج تک بہتر ہوا
کون کرتا ہے طرف مجھ عاشق بیتاب کی
صورت خوش جن نے دیکھی اس کی سو اودھر ہوا
جل گیا یاقوت اس کے لعل لب جب ہل گئے
گوہر خوش آب انداز سخن سے تر ہوا
کیا کہوں اب کے جنوں میں گھر کا بھی رہنا گیا
کام جو مجھ سے ہوا سو عقل سے باہر ہوا
شب نہ کرتا شور اس کوچے میں گر میں جانتا
اس کی بے خوابی سے ہنگامہ مرے سر پر ہوا
ہووے یارب ان سیہ رو آنکھوں کا خانہ خراب
یک نظر کرتے ہی میرے دل میں اس کا گھر ہوا
استخواں سب پوست سے سینے کے آتے ہیں نظر
عشق میں ان نوخطوں کے میر میں مسطر ہوا
میر تقی میر