سب خراشوں ہی سے جبہے بھر گئے

دیوان سوم غزل 1311
دست بستہ کام ناخن کر گئے
سب خراشوں ہی سے جبہے بھر گئے
بت کدے سے تو چلے کعبے ولے
دس قدم ہم دل کو کر پتھر گئے
کیا جو اڑتی سی سنی آئے ہیں گل
ہم اسیروں کے تو بال و پر گئے
مجلسوں کی مجلسیں برہم ہوئیں
لوگ وے پل مارتے کیدھر گئے
تھے لب جو پر جو گرم دید یار
سبزے کے سے رنگ مژگاں تر گئے
خانوادے ہو گئے کیا کیا خراب
خانہ ساز دین کیسے مر گئے
دست افشاں پاے کوباں شوق میں
صومعے سے میر بھی باہر گئے
میر تقی میر