سبھوں سے پاتے ہیں بیگانہ آشنا تیرا

دیوان چہارم غزل 1329
پھرے ہے وحشی سا گم گشتہ عشق کا تیرا
سبھوں سے پاتے ہیں بیگانہ آشنا تیرا
دریغ و درد تجھے کیوں ہے یاں تو جی ہی گئے
ہوا ہے ایک نگہ میں زیان کیا تیرا
جہاں بھرا ہے ترے شور حسن و خوبی سے
لبوں پہ لوگوں کے ہے ذکر جا بجا تیرا
نگاہ ایک ادھر ایک تیغ تیز کی اور
ہمارا خون ہی کرنا ہے مدعا تیرا
نظر کنھوں نے نہ کی حال میر پر افسوس
غریب شہروفا تھا وہ خاک پا تیرا
میر تقی میر