ساتھ ان کے چل تماشا کرلے جس کو چائو ہو

دیوان چہارم غزل 1478
رفتن رنگین گل رویاں سے کیا ٹھہرائو ہو
ساتھ ان کے چل تماشا کرلے جس کو چائو ہو
قد جو خم پیری سے ہو تو سرکا دھننا ہیچ ہے
ہوچکا ہونا جو کچھ تھا اب عبث پچھتائو ہو
خون کے سیلاب میں ڈوبے ہوئوں کا کیا شمار
ٹک بہے وہ جدول شمشیر تو ستھرائو ہو
تھی وفا و مہر تو بابت دیارعشق کی
دیکھیں شہر حسن میں اس جنس کا کیا بھائو ہو
گریۂ خونیں سے ہیں رخسار میرے لعل تر
دیدئہ خوں بار یوں ہیں جیسے منھ پر گھائو ہو
میر تقی میر