زہ دامن کی بھری ہے لہو سے کس کو تونے مارا آج

دیوان پنجم غزل 1589
کس تازہ مقتل پہ کشندے تیرا ہوا ہے گذارا آج
زہ دامن کی بھری ہے لہو سے کس کو تونے مارا آج
کل تک ہم نے تم کو رکھا تھا سو پردے میں کلی کے رنگ
صبح شگفتہ گل جو ہوئے تم سب نے کیا نظارہ آج
کوئی نہیں شاہان سلف میں خالی پڑے ہیں دونوں عراق
یعنی خود گم اسکندر ہے ناپیدا ہے دارا آج
چشم مشتاق اس لب و رخ سے لمحہ لمحہ اٹھی نہیں
کیا ہی لگے ہے اچھا اس کا مکھڑا پیارا پیارا آج
اب جو نسیم معطر آئی شاید بال کھلے اس کے
شہر کی ساری گلیاں ہو گئیں گویا عنبر سارا آج
کل ہی جوش و خروش ہمارے دریا کے سے تلاطم تھے
دیکھ ترے آشوب زماں کے کر بیٹھے ہیں کنارہ آج
چشم چرائی دور سے کر وا مجھ کو لگا یہ کہہ کے گیا
صید کریں گے کل ہم آکر ڈال چلے ہیں چارا آج
کل ہی زیان جیوں کے کیے ہیں عشق میں کیا کیا لوگوں نے
سادگی میری چاہ میں دیکھو میں ڈھونڈوں ہوں چارہ آج
میر ہوئے ہو بے خود کب کے آپ میں بھی تو ٹک آئو
ہے دروازے پر انبوہ اک رفتۂ شوق تمھارا آج
میر تقی میر