زہر دیویں کاشکے احباب اس درویش کو

دیوان چہارم غزل 1473
کیا کروں میں صبرکم کو اور رنج بیش کو
زہر دیویں کاشکے احباب اس درویش کو
کھول آنکھیں صبح سے آگے کہ شیر اللہ کے
دیکھتے رہتے ہیں غافل وقت گرگ و میش کو
عشق کے بیتاب کے آزار میں مت کر شتاب
جان دیتے دیر لگتی ہی نہیں دل ریش کو
دشمن اپنا میں تو فکر دوستی ہی میں رہا
اب رکھوں کیوں کر سلامت جان عشق اندیش کو
مختلط ترسا بچوں سے شیرہ خانے میں رہا
کن نے دیکھا مسجدوں میں میر کافرکیش کو
میر تقی میر