زنجیر ہے مناسب شمشیر ہے مناسب

دیوان پنجم غزل 1576
عشق و جنوں کی کیا اب تدبیر ہے مناسب
زنجیر ہے مناسب شمشیر ہے مناسب
دوری شعلہ خویاں آخر جلا رکھے گی
صحبت جو ایسی ہووے درگیر ہے مناسب
جلدی نہ قتل میں کر پچھتاوے گا بہت تو
خوں ریزی میں ہماری تاخیر ہے مناسب
رسواے شہر ہونا عزت ہے عاشقی میں
احوال کی ہمارے تشہیر ہے مناسب
دل کی خرابی کے تو درپے ہے اے صنم کیوں
اس خانۂ خدا کی تعمیر ہے مناسب
شب اس کو میں نے دیکھا سوتے بغل میں اپنی
اس خواب کی نہ کرنی تعبیر ہے مناسب
رحم آشنا کسو کو اس بستی میں نہ پایا
اسلامیوں کی یاں کے تکفیر ہے مناسب
ہے سرگذشت اپنی ننوشتنی ہی بہتر
گذری سو گذری کیا اب تحریر ہے مناسب
دنیا میں کوئی پھر پھر آیا نہیں ہے صاحب
اک بار تم کو مرنا اے میر ہے مناسب
میر تقی میر