زردی رنگ و چشم تر ہے شرط

دیوان پنجم غزل 1642
عشق کو جرأت و جگر ہے شرط
زردی رنگ و چشم تر ہے شرط
بے خبر حال سے نہ رہ میرے
میں کہے رکھتا ہوں خبر ہے شرط
حج کو جاوے تو شیخ کو لے جا
کعبے جانے کو یہ بھی خر ہے شرط
پیسوں پر ریجھتے ہیں یہ لڑکے
عشق سیمیں تناں کو زر ہے شرط
خام رہتا ہے آدمی گھر میں
پختہ کاری کے تیں سفر ہے شرط
خبث یاروں کا کر فسانوں میں
عیب کرنے کو بھی ہنر ہے شرط
لعل پارے ہیں میر لخت جگر
دیکھ کر خون رو نظر ہے شرط
میر تقی میر