زخمی پڑے ہیں مرغ ہزاروں چمن کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1596
اے بوے گل سمجھ کے مہکیو پون کے بیچ
زخمی پڑے ہیں مرغ ہزاروں چمن کے بیچ
بہ بھی گیا میں اندر ہی اندر گداز ہو
دھوکا ہے جوں حباب مرے پیرہن کے بیچ
میر تقی میر