زاہد جو صفت تجھ میں ہے سو زن جلبی ہے

دیوان اول غزل 573
کہنا ترے منھ پر تو نپٹ بے ادبی ہے
زاہد جو صفت تجھ میں ہے سو زن جلبی ہے
اس دشت میں اے سیل سنبھل ہی کے قدم رکھ
ہر سمت کو یاں دفن مری تشنہ لبی ہے
ہر اک سے کہا نیند میں پر کوئی نہ سمجھا
شاید کہ مرے حال کا قصہ عربی ہے
عزلت سے نکل شیخ کہ تیرے لیے تیار
کوئی ہفت گزی میخ کوئی دہ وجبی ہے
اے چرخ نہ تو روز سیہ میر پہ لانا
بیچارہ وہ اک نعرہ زن نیم شبی ہے
میر تقی میر