رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

دیوان اول غزل 363
گذر جان سے اور ڈر کچھ نہیں
رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں
ہے اب کام دل جس پہ موقوف تو
وہ نالہ کہ جس میں اثر کچھ نہیں
ہوا مائل اس سرو کا دل مرا
بجز جور جس سے ثمر کچھ نہیں
نہ کر اپنے محووں کا ہرگز سراغ
گئے گذرے بس اب خبر کچھ نہیں
تری ہوچکی خشک مژگاں کی سب
لہو اب جگر میں مگر کچھ نہیں
حیا سے نہیں پشت پا پر وہ چشم
مرا حال مدنظر کچھ نہیں
کروں کیونکے انکارعشق آہ میں
یہ رونا بھلا کیا ہے گر کچھ نہیں
کمر اس کی رشک رگ جاں ہے میر
غرض اس سے باریک تر کچھ نہیں
میر تقی میر