رہنے لگا ہے دل کو اب آزار بے طرح

دیوان اول غزل 194
ہونے لگا گذار غم یار بے طرح
رہنے لگا ہے دل کو اب آزار بے طرح
اب کچھ طرح نہیں ہے کہ ہم غم زدے ہوں شاد
کہنے لگا ہے منھ سے ستمگار بے طرح
جاں بر تمھارے ہاتھ سے ہو گا نہ اب کوئی
رکھنے لگے ہو ہاتھ میں تلوار بے طرح
فتنہ اٹھے گا ورنہ نکل گھر سے تو شتاب
بیٹھے ہیں آ کے طالب دیدار بے طرح
لوہو میں شور بور ہے دامان و جیب میر
بپھرا ہے آج دیدئہ خونبار بے طرح
میر تقی میر