رہتے ہیں ان کے گلے لگنے کے برسوں سے گلے

دیوان پنجم غزل 1756
عیدیں آئیں بارہا لیکن نہ وے آکر ملے
رہتے ہیں ان کے گلے لگنے کے برسوں سے گلے
اس زمانے کی تری سے لہر بہر اگلی کہاں
بے تہی کرنے لگے دریا دلوں کے حوصلے
غنچگی میں دیکھے ہیں صد رنگ جور آسماں
اب جو گل سا بکھرا ہوں دیکھوں کہ کیسا گل کھلے
سارے عالم کے حواس خمسہ میں ہے انتشار
ایک ہم تم ہی نہیں معلوم ہوتے دہ دلے
میر طے ہو گا بیابان محبت کس طرح
راہ ہے پرخار میرے پائوں میں ہیں آبلے
میر تقی میر