رہتا ہے آب دیدہ یاں تا گلے ہمیشہ

دیوان دوم غزل 940
پھرتی ہیں اس کی آنکھیں آنکھوں تلے ہمیشہ
رہتا ہے آب دیدہ یاں تا گلے ہمیشہ
تصدیع ایک دو دن ہووے تو کوئی کھینچے
تڑپے جگر ہمیشہ چھاتی جلے ہمیشہ
اک اس مغل بچے کو وعدہ وفا نہ کرنا
کچھ جا کہیں تو کرنا آرے بلے ہمیشہ
کب تک وفا کرے گا یوں حوصلہ ہمارا
دل پیسے درد اکثر غم جی ملے ہمیشہ
اس جسم خاکی سے ہم مٹی میں اٹ رہے ہیں
یوں خاک میں کہاں تک کوئی رلے ہمیشہ
آئندہ و روندہ باد سحر کبوتر
قاصد نیا ادھر کو کب تک چلے ہمیشہ
مسجد میں چل کے ملیے جمعے کے دن بنے تو
ہوتے ہیں میر صاحب واں دن ڈھلے ہمیشہ
میر تقی میر