رومال دو دو دن تک جوں ابرتر رہے ہے

دیوان اول غزل 537
جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے
رومال دو دو دن تک جوں ابرتر رہے ہے
آہ سحر کی میری برچھی کے وسوسے سے
خورشید کے منھ اوپر اکثر سپر رہے ہے
آگہ تو رہیے اس کی طرز رہ و روش سے
آنے میں اس کے لیکن کس کو خبر رہے ہے
ان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سے
اب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے
آب حیات کی سی ساری روش ہے اس کی
پر جب وہ اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے
تلوار اب لگا ہے بے ڈول پاس رکھنے
خون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے
در سے کبھو جو آتے دیکھا ہے میں نے اس کو
تب سے ادھر ہی اکثر میری نظر رہے ہے
آخر کہاں تلک ہم اک روز ہوچکیں گے
برسوں سے وعدئہ شب ہر صبح پر رہے ہے
میر اب بہار آئی صحرا میں چل جنوں کر
کوئی بھی فصل گل میں نادان گھر رہے ہے
میر تقی میر