روش آب رواں پھیلے پھرا کرتے تھے

دیوان چہارم غزل 1494
باغ میں سیر کبھو ہم بھی کیا کرتے تھے
روش آب رواں پھیلے پھرا کرتے تھے
غیرت عشق کسو وقت بلا تھی ہم کو
تھوڑی آزردگی میں ترک وفا کرتے تھے
دل کی بیماری سے خاطر تو ہماری تھی جمع
لوگ کچھ یوں ہی محبت سے دوا کرتے تھے
جب تلک شرم رہی مانع شوخی اس کی
تب تلک ہم بھی ستم دیدہ حیا کرتے تھے
مائل کفر جوانی میں بہت تھے ہم لوگ
دیر میں مسجدوں میں دیر رہا کرتے تھے
آتش عشق جہاں سوز کی لپٹیں تھیں قہر
دل جگر جان درونے میں جلا کرتے تھے
اب تو بیتابی دل نے ہمیں بٹھلا ہی دیا
آگے رنج و تعب عشق اٹھا کرتے تھے
اٹھ گئے پر مرے تکیے کو کہیں گے یاں میر
درد دل بیٹھے کہانی سی کہا کرتے تھے
میر تقی میر