روز برسات کی ہوا ہے یاں

دیوان اول غزل 353
آہ اور اشک ہی سدا ہے یاں
روز برسات کی ہوا ہے یاں
جس جگہ ہو زمین تفتہ سمجھ
کہ کوئی دل جلا گڑا ہے یاں
گو کدورت سے وہ نہ دیوے رو
آرسی کی طرح صفا ہے یاں
ہر گھڑی دیکھتے جو ہو ایدھر
ایسا کہ تم نے آنکلا ہے یاں
رند مفلس جگر میں آہ نہیں
جان محزوں ہے اور کیا ہے یاں
کیسے کیسے مکان ہیں ستھرے
اک ازاں جملہ کربلا ہے یاں
اک سسکتا ہے ایک مرتا ہے
ہر طرف ظلم ہورہا ہے یاں
صد تمنا شہید ہیں یک جا
سینہ کوبی ہے تعزیہ ہے یاں
دیدنی ہے غرض یہ صحبت شوخ
روز و شب طرفہ ماجرا ہے یاں
خانۂ عاشقاں ہے جاے خوب
جاے رونے کی جا بہ جا ہے یاں
کوہ و صحرا بھی کر نہ جاے باش
آج تک کوئی بھی رہا ہے یاں
ہے خبر شرط میر سنتا ہے
تجھ سے آگے یہ کچھ ہوا ہے یاں
موت مجنوں کو بھی یہیں آئی
کوہکن کل ہی مر گیا ہے یاں
میر تقی میر