رنگ طپیدن کی شوخی سے منھ پر میرے رنگ نہیں

دیوان چہارم غزل 1456
جی مارا بیتابی دل نے اب کچھ اچھا ڈھنگ نہیں
رنگ طپیدن کی شوخی سے منھ پر میرے رنگ نہیں
وہ جو خرام ناز کرے ہے ٹھوکر دل کو لگتی ہے
چوٹ کے اوپر چوٹ پڑے ہے دل ہے میرا سنگ نہیں
ہم بھی عالم فقر میں ہیں پر ہم سے جو مانگے کوئی فقیر
ایک سوال میں دو عالم دیں اتنے دل کے تنگ نہیں
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے ہو گے کیا میرے طور شتابی ہو
بیٹھا ہوں کھڑے پائوں میں کچھ چلنے میں تو درنگ نہیں
شعرمیر بھی پڑھتا ہے تو اور کسو کا لے کر نام
کیوں کر کہیے اس ناداں کو نام سے میرے ننگ نہیں
میر تقی میر