رنگ بدن میت کے رنگوں جیتے جی ہی پہ زرد ہوا

دیوان چہارم غزل 1333
عشق کی ہے بیماری ہم کو دل اپنا سب درد ہوا
رنگ بدن میت کے رنگوں جیتے جی ہی پہ زرد ہوا
تب بھی نہ سر کھینچا تھا ہم نے آخر مر کر خاک ہوئے
اب جو غبارضعیف اٹھا تھا پامالی میں گرد ہوا
میر تقی میر