رنگ اس کا کہیں یاد نہ دے زنہار اس سے کچھ کام نہ لو

دیوان چہارم غزل 1475
آج ہمارا سر دکھتا ہے صندل کا بھی نام نہ لو
رنگ اس کا کہیں یاد نہ دے زنہار اس سے کچھ کام نہ لو
یاد آئے وہ کیا تڑپے ہے کیا بیتابی کرتا ہے
کوئی تسلی پھر ہوتا ہے جب تک دل کو تھام نہ لو
میر کہاں تک بے خوابی وہ میں ہوں ٹک جو سلاتا ہوں
بس جو تمھارا کچھ بھی چلے تو ایک گھڑی آرام نہ لو
میر تقی میر