رنگیلی نپٹ اس جواں کی طرح ہے

دیوان اول غزل 561
تمام اس کے قد میں سناں کی طرح ہے
رنگیلی نپٹ اس جواں کی طرح ہے
برے ہونا احوال کو سن کے میرے
بھلا تو ہی کہہ یہ کہاں کی طرح ہے
اڑے خاک گاہے رہے گاہ ویراں
خراب و پریشاں یہاں کی طرح ہے
تعلق کرو میر اس پر جو چاہو
مری جان یہ کچھ جہاں کی طرح ہے
میر تقی میر