راہ رفتن ہے اب مگر درپیش

دیوان پنجم غزل 1635
رنج و غم آئے بیشتر درپیش
راہ رفتن ہے اب مگر درپیش
مرگ فرہاد سے ہوا بدنام
ہے خجالت سے تیشہ سردرپیش
یار آنکھوں تلے ہی پھرتا ہے
میری مدت سے ہے نظر درپیش
خانہ روشن پتنگوں نے نہ کیا
ہے چراغوں کو بھی سحر درپیش
غم سے نزدیک مرنے کے پہنچے
دور کا میر ہے سفر درپیش
میر تقی میر