راہ خرابے سے نکلی نہ گھر کی بستی میں کیوں کر جاویں ہم

دیوان چہارم غزل 1432
بن میں چمن میں جی نہیں لگتا یارو کیدھر جاویں ہم
راہ خرابے سے نکلی نہ گھر کی بستی میں کیوں کر جاویں ہم
کیسی کیسی خرابی کھینچی دشت و در میں سر مارا
خانہ خراب کہاں تک پھریے ایسا ہو گھر جاویں ہم
عشق میں گام اول اپنے جی سے گذرنا پیش آیا
اس میدان میں رکھ کے قدم کیا مرنے سے ڈر جاویں ہم
خواہ نماز خضوع سے ہووے خواہ نیاز اک سوے دل
وقت رہا ہے بہت کم اب تو بارے کچھ کر جاویں ہم
کب تک میر فراق میں اس کے لوہو پی پی جیتے رہیں
بس چلتا نہیں آہ اپنا کچھ ورنہ ابھی مر جاویں ہم
میر تقی میر