رام صیاد کا ہوتے ہی خدا یاد آیا

دیوان اول غزل 155
گرچہ امید اسیری پہ میں ناشاد آیا
رام صیاد کا ہوتے ہی خدا یاد آیا
لوہو پینے کو مرا بس تھی مری تشنہ لبی
کاہے کو کیجیے تصدیع یہ جلاد آیا
میر تقی میر