راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمھارے سب خلاف

دیوان اول غزل 249
آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف
راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمھارے سب خلاف
آہ برچھی سی لگی تھی تیر سی دل کی طپش
ہجر کی شب مجھ پہ گذری غیرت روز مصاف
ایک دن میں نے لکھا تھا اس کو اپنا درد دل
آج تک جاتا نہیں سینے سے خامے کے شگاف
پائوں پر سے اپنے میرا سر اٹھانے مت جھکو
تیغ باندھی ہے میاں تم نے کمر میں خوش غلاف
صف الٹ جا عاشقوں کی گر ترے ابرو ہلیں
ایک دم تلوار کے چلنے میں ہووے ملک صاف
شیخ مت روکش ہو مستوں کا تو اس جبے اپر
لیتے استنجے کو ڈھیلا تیری ٹل جاتی ہے ناف
عشق کے بازار میں سودا نہ کیجو تو تو میر
سر کو جب واں بیچ چکتے ہیں تو یہ ہے دست لاف
میر تقی میر