دے بھی مے ابر زور آیا ہے

دیوان اول غزل 604
ساقی گھر چاروں اور آیا ہے
دے بھی مے ابر زور آیا ہے
ذوق تیرے وصال کا میرے
ننگے سر تا بہ گور آیا ہے
بوجھ اٹھاتا ہوں ضعف کا شاید
ہاتھ پائوں میں زور آیا ہے
غارت دل کرے ہے ابرسیاہ
بے طرح گھر میں چور آیا ہے
آج تیری گلی سے ظالم میر
لوہو میں شور بور آیا ہے
میر تقی میر