دیکھ آنکھیں وہ سرمہ گیں میں پھردنبالہ گرد ہوا

دیوان پنجم غزل 1553
پھرتے پھرتے اس کے لیے میں آخر دشت نورد ہوا
دیکھ آنکھیں وہ سرمہ گیں میں پھردنبالہ گرد ہوا
جیتے جی میت کے رنگوں لوگ مجھے اب پاتے ہیں
جوش بہار عشق میں یعنی سرتا پا میں زرد ہوا
گرم مزاج رہا نہیں اپنا ویسے اس کے ہجراں میں
ہوتے ہوتے افسردہ دیکھوگے اک دن سرد ہوا
میر نہ اپنے درد دل کو مجھ سے کہا کر روز وشب
صبح جو گوش دل سے سنا تھا دل میں میرے درد ہوا
میر تقی میر