دیکھ اس کو بے دماغ نشہ سب اتر گیا

دیوان چہارم غزل 1324
ہم مست عشق جس کے تھے وہ روٹھ کر گیا
دیکھ اس کو بے دماغ نشہ سب اتر گیا
جاں بخشی اس کے ہونٹوں کی سن آب زندگی
ایسا چھپا کہیں کہ کہا جائے مر گیا
کہتے ہیں میر کعبے گیا ترک عشق کر
راہ دل شکستہ کدھر وہ کدھر گیا
میر تقی میر