دیکھی کہاں وہ زلف کہ سودا سا ہو گیا

دیوان دوم غزل 696
دل دفعتہ جنوں کا مہیا سا ہو گیا
دیکھی کہاں وہ زلف کہ سودا سا ہو گیا
ٹک جوش سا اٹھا تھا مرے دل سے رات کو
دیکھا تو ایک پل ہی میں دریا سا ہو گیا
بے رونقی باغ ہے جنگل سے بھی پرے
گل سوکھ تیرے ہجر میں کانٹا سا ہو گیا
جلوہ ترا تھا جب تئیں باغ و بہار تھا
اب دل کو دیکھتے ہیں تو صحرا سا ہو گیا
کل تک تو ہم وے ہنستے چلے آئے تھے یوں ہی
مرنا بھی میر جی کا تماشا سا ہو گیا
میر تقی میر