دیکھیں تو تیری کب تک یہ بد شرابیاں ہیں

دیوان اول غزل 308
تلوار غرق خوں ہے آنکھیں گلابیاں ہیں
دیکھیں تو تیری کب تک یہ بد شرابیاں ہیں
جب لے نقاب منھ پر تب دید کر کہ کیا کیا
در پردہ شوخیاں ہیں پھر بے حجابیاں ہیں
چاہے ہے آج ہوں میں ہفت آسماں کے اوپر
دل کے مزاج میں بھی کتنی شتابیاں ہیں
جی بکھرے دل ڈھہے ہے سر بھی گرا پڑے ہے
خانہ خراب تجھ بن کیا کیا خرابیاں ہیں
مہمان میر مت ہو خوان فلک پہ ہرگز
خالی یہ مہر و مہ کی دونوں رکابیاں ہیں
میر تقی میر