دیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا

دیوان اول غزل 143
یار عجب طرح نگہ کر گیا
دیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا
تنگ قبائی کا سماں یار کی
پیرہن غنچہ کو تہ کر گیا
جانا ہے اس بزم سے آیا تو کیا
کوئی گھڑی گو کہ تو رہ کر گیا
وصف خط و خال میں خوباں کے میر
نامۂ اعمال سیہ کر گیا
میر تقی میر