دیکھا نہ تم نے ایدھر صرفے سے اک نظر کے

دیوان دوم غزل 988
دل خوں ہوا ہمارا ٹکڑے ہوئے جگر کے
دیکھا نہ تم نے ایدھر صرفے سے اک نظر کے
چشمے کہیں ہیں جوشاں جوئیں کہیں ہیں جاری
آثار اب تلک ہیں یاروں کی چشم تر کے
رہنے کی اپنے جا تو نے دیر ہے نہ کعبہ
اٹھیے جو اس کے در سے تو ہوجیے کدھر کے
اس شعر و شاعری پر اچھی بندھی نہ ہم سے
محوخیال شاعر یوں ہی ہیں اس کمر کے
دنیا میں ہے بسیرا یارو سرائے کا سا
یہ رہروان ہستی عازم ہیں سب سفر کے
وے یہ ہی چھاتیاں ہیں زخموں سے جو بھری ہیں
کیا ہے جو بوالہوس نے دوچار کھائے چرکے
تہ بے خودی کی اپنی کیا کچھ ورے دھری ہے
ہم بے خبر ہوئے ہیں پہنچے کسو خبر کے
اس آستاں کی دوری اس دل کی ناصبوری
کیا کہیے آہ غم سے گھر کے ہوئے نہ در کے
خاک ایسی عاشقی میں ٹھکرائے بھی گئے کل
پائوں کنے سے اس کے پر میر جی نہ سرکے
میر تقی میر