دین و مذہب مرا ہے پیار اخلاص

دیوان پنجم غزل 1639
شاعری شیوہ ہے شعار اخلاص
دین و مذہب مرا ہے پیار اخلاص
اب کہاں وہ مؤدت قلبی
ہووے ظاہر میں یوں ہزار اخلاص
سورۃ اخلاص کی پڑھی برسوں
میر رکھتا نہیں ہے یار اخلاص
میر تقی میر