دینا تھا تنک رحم بھی بیدادگروں کو

دیوان دوم غزل 932
کیا چہرے خدا نے دیے ان خوش پسروں کو
دینا تھا تنک رحم بھی بیدادگروں کو
آنکھوں سے ہوئی خانہ خرابی دل اے کاش
کر لیتے تبھی بند ہم ان دونوں دروں کو
پرواز گلستاں کے تو شائستہ نہ نکلے
پروانہ نمط آگ ہم اب دیں گے پروں کو
سب طائر قدسی ہیں یہ جو زیر فلک ہیں
موندا ہے کہاں عشق نے ان جانوروں کو
زنہار ترے دل کی توجہ نہ ہو ایدھر
آگے ترے ہم کاڑھ رکھیں گر جگروں کو
پیراہن صدچاک سلاتے ہیں مرا لوگ
تہ سے نہیں مطلق خبر ان بے خبروں کو
جوں اشک جہاں جاتے رہیں گے تو گئے پھر
دیکھا کرو ٹک آن کے ہم دیدہ تروں کو
اس باغ کے ہر گل سے چپک جاتی ہیں آنکھیں
مشکل بنی ہے آن کے صاحب نظروں کو
آداب جنوں چاہیے ہم سے کوئی سیکھے
دیکھا ہے بہت یاروں نے آشفتہ سروں کو
اندیشہ کی جاگہ ہے بہت میرجی مرنا
درپیش عجب راہ ہے ہم نوسفروں کو
میر تقی میر