دیدئہ تر ابر سا چھایا ہے اب

دیوان چہارم غزل 1356
جوش رونے کا مجھے آیا ہے اب
دیدئہ تر ابر سا چھایا ہے اب
ٹیڑھے بانکے سیدھے سب ہوجائیں گے
اس کے بالوں نے بھی بل کھایا ہے اب
ہوں بخود تو کوئی پہنچے مجھ تلک
بے خودی نے دور پہنچایا ہے اب
کاش کے ہوجائے سینہ چاک چاک
رکتے رکتے جی بھی گھبرایا ہے اب
راہ پر وہ کیونکے آوے مست ناز
دشمنوں نے اس کو بہکایا ہے اب
کیا جئیں گے داغ ہوکر خوں ہوا
زندگی کا دل جو سرمایہ ہے اب
میر شاید کعبے ہی میں رہ پڑے
دیر سے تو یاں خدا لایا ہے اب
میر تقی میر