دو دن جوں توں جیتے رہے سو مرنے ہی کے مہیا تھے

دیوان چہارم غزل 1526
کیا کیا ہم نے رنج اٹھائے کیا کیا ہم بھی شکیبا تھے
دو دن جوں توں جیتے رہے سو مرنے ہی کے مہیا تھے
عشق کیا سو باتیں بنائیں یعنی شعر شعار ہوا
بیتیں جو وے مشہور ہوئیں تو شہروں شہروں رسوا تھے
کیا پگڑی کو پھیر کے رکھتے کیا سر نیچے نہ ہوتا تھا
لطف نہیں اب کیا کہیے کچھ آگے ہم بھی کیا کیا تھے
اب کے وصال قرار دیا ہے ہجر ہی کی سی حالت ہے
ایک سمیں میں دل بے جا تھا تو بھی ہم وے یک جا تھے
کیا ہوتا جو پاس اپنے اے میر کبھو وے آجاتے
عاشق تھے درویش تھے آخر بیکس بھی تھے تنہا تھے
میر تقی میر