دوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا

دیوان اول غزل 118
قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا
دوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا
برگشتہ بخت دیکھ کہ قاصد سفر سے میں
بھیجا تھا اس کے پاس سو میرے وطن گیا
خاطر نشاں اے صید فگن ہو گی کب تری
تیروں کے مارے میرا کلیجہ تو چھن گیا
یادش بخیر دشت میں مانند عنکبوت
دامن کے اپنے تار جو خاروں پہ تن گیا
مارا تھا کس لباس میں عریانی نے مجھے
جس سے تہ زمین بھی میں بے کفن گیا
آئی اگر بہار تو اب ہم کو کیا صبا
ہم سے تو آشیاں بھی گیا اور چمن گیا
سرسبز ملک ہند میں ایسا ہوا کہ میر
یہ ریختہ لکھا ہوا تیرا دکن گیا
میر تقی میر