دوستی مدعی جانی تھی

دیوان دوم غزل 956
یار بن تلخ زندگانی تھی
دوستی مدعی جانی تھی
سر سے اس کی ہوا گئی نہ کبھو
عمر برباد یوں ہی جانی تھی
لطف پر اس کے ہم نشیں مت جا
کبھو ہم پر بھی مہربانی تھی
ہاتھ آتا جو تو تو کیا ہوتا
برسوں تک ہم نے خاک چھانی تھی
شیب میں فائدہ تامل کا
سوچنا تب تھا جب جوانی تھی
میرے قصے سے سب کی گئیں نیندیں
کچھ عجب طور کی کہانی تھی
عاشقی جی ہی لے گئی آخر
یہ بلا کوئی ناگہانی تھی
اس رخ آتشیں کی شرم سے رات
شمع مجلس میں پانی پانی تھی
پھر سخن نشنوی ہے ویسی ہی
رات ایک آدھ بات مانی تھی
کوے قاتل سے بچ کے نکلا خضر
اسی میں اس کی زندگانی تھی
فقر پر بھی تھا میر کے اک رنگ
کفنی پہنی سو زعفرانی تھی
میر تقی میر