دن آج کا بھی سانجھ ہوا انتظار میں

دیوان سوم غزل 1204
دور اس سے جی چکے ہیں ہم اس روزگار میں
دن آج کا بھی سانجھ ہوا انتظار میں
داغوں سے بھر گیا ہے مرا سینۂ فگار
گل پھول زور زور کھلے اس بہار میں
کیا اعتبار طائر دل کی تڑپ کا اب
مذبوحی سی ہے کچھ حرکت اس شکار میں
بوسہ لبوں کا مانگتے ہی تم بگڑ گئے
بہتیری باتیں ہوتی ہیں اخلاص پیار میں
دل پھر کے ہم سے خانۂ زنجیر کے قریب
ٹک پہنچتا ہی ہے شکن زلف یار میں
اس بحرحسن پاس نہ خنجر تھا کل نہ تیغ
میں جان دی ہے حسرت بوس و کنار میں
چلتا ہے ٹک تو دیکھ کے چل پائوں ہر نفس
آنکھیں ہی بچھ گئی ہیں ترے رہگذار میں
کس کس ادا سے ریختے میں نے کہے ولے
سمجھا نہ کوئی میری زبان اس دیار میں
تڑپے ہے متصل وہ کہاں ایسے روز و شب
ہے فرق میر برق و دل بے قرار میں
میر تقی میر