دماغ کس کو ہے محشر کی دادخواہی کا

دیوان اول غزل 153
اٹھوں نہ خاک سے کشتہ میں کم نگاہی کا
دماغ کس کو ہے محشر کی دادخواہی کا
سنو ہو جل ہی بجھوں گا کہ ہورہا ہوں میں
چراغ مضطرب الحال صبح گاہی کا
میر تقی میر