دل کے پہلو سے ہم آتش میں ہیں اور آب میں ہیں

دیوان سوم غزل 1174
ٹھنڈی سانسیں بھریں ہیں جلتے ہیں کیا تاب میں ہیں
دل کے پہلو سے ہم آتش میں ہیں اور آب میں ہیں
ساتھ اپنے نہیں اسباب مساعد مطلق
ہم بھی کہنے کے تئیں عالم اسباب میں ہیں
غفلت دل سے ستم گذریں ہیں سو مت پوچھو
قافلے چلنے کو تیار ہیں ہم خواب میں ہیں
عشق کے ہیں گے جو سرگشتہ پڑے ہیں ڈوبے
کشتیاں نکلیں سو کیا آن کے گرداب میں ہیں
دور کیا اس سے جو بیٹھے ہے غبار اپنا دور
پاس اس طور کے بھی عشق کے آداب میں ہیں
ہے فروغ مہ تاباں سے فراغ کلی
دل جلے پرتو رخ سے ترے مہتاب میں ہیں
ہم بھی اس شہر میں ان لوگوں سے ہیں خانہ خراب
میر گھر بار جنھوں کے رہ سیلاب میں ہیں
میر تقی میر