دل کے دل ہی میں کھپائے اپنے جوش

دیوان سوم غزل 1147
ہوں تو دریا پر کیا ترک خروش
دل کے دل ہی میں کھپائے اپنے جوش
مست رہتے ہیں ہم اپنے حال میں
عرض کریے حال پر یہ کس کے گوش
عاقبت تجھ کو لباس راہ راہ
لے گیا ہے راہ سے اے تنگ پوش
ہو نہ آگے میرے جوں سوسن زباں
ہوسکے تو گل کے رنگوں رہیے گوش
میر کو طفلان تہ بازار میں
دیکھو شاید ہو وہیں وہ دل فروش
میر تقی میر