دل کی معاملت ہے کیا کوئی خوار ہووے

دیوان اول غزل 579
وعدہ وعید پیارے کچھ تو قرار ہووے
دل کی معاملت ہے کیا کوئی خوار ہووے
فتراک سے نہ باندھے دیکھے نہ تو تڑپنا
کس آرزو پہ کوئی تیرا شکار ہووے
از بس لہو پیا ہے میں تیرے غم میں گل رو
تربت سے میری شاید حشر بہار ہووے
مرنا بھلا ہے ظالم اس زندگی بد سے
یوں چاہیے کہ کوئی تجھ سے نہ یار ہووے
میں مست مرگیا ہوں کرنا عجب نہ ساقی
گر سنگ شیشہ میرا سنگ مزار ہووے
وابست آسماں کا ملتا ہے خاک ہی میں
اس بے مدار اوپر کس کا مدار ہووے
اے غیر میر تجھ کو گر جوتیاں نہ مارے
سید نہ ہووے پھر تو کوئی چمار ہووے
میر تقی میر