دل کلیجا نکال لیتے ہیں

دیوان سوم غزل 1203
جس کا خوباں خیال لیتے ہیں
دل کلیجا نکال لیتے ہیں
کیا نظرگاہ ہے کہ شرم سے گل
سر گریباں میں ڈال لیتے ہیں
دیکھ اسے ہو ملک سے بھی لغزش
ہم تو دل کو سنبھال لیتے ہیں
کھول کر بال سادہ رو لڑکے
خلق کا کیوں وبال لیتے ہیں
تیغ کھینچے ہیں جب یہ خوش ظاہر
ماہ و خور منھ پہ ڈھال لیتے ہیں
دلبراں نقد دل کو عاشق کے
جان کر اپنا مال لیتے ہیں
ہیں گدا میر بھی ولے دوجہاں
کرکے اک ہی سوال لیتے ہیں
میر تقی میر