دل پر خوں کی اک گلابی سے

دیوان اول غزل 617
عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دل پر خوں کی اک گلابی سے
جی ڈھہا جائے ہے سحر سے آہ
رات گذرے گی کس خرابی سے
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
برقع اٹھتے ہی چاند سا نکلا
داغ ہوں اس کی بے حجابی سے
کام تھے عشق میں بہت پر میر
ہم ہیں فارغ ہوئے شتابی سے
میر تقی میر