دل نام قطرہ خون یہ ناحق تلف ہوا

دیوان اول غزل 157
کیا کہیے عشق حسن کا آپھی طرف ہوا
دل نام قطرہ خون یہ ناحق تلف ہوا
کیونکر میں فتح پائوں تری زلفوں پر کہ اب
یک دل شکست خوردہ مرا دو طرف ہوا
میر تقی میر