دل زینہار دیکھ خبردار بہت ہیں

دیوان اول غزل 338
کچھ انکھڑیاں ہی اس کی نہیں اک بلا کہ بس
دل زینہار دیکھ خبردار بہت ہیں
بیگانہ خو رقیب سے وسواس کچھ نہ کر
فرماوے ٹک زباں سے تو پھر یار بہت ہیں
کوئی تو زمزمہ کرے میرا سا دل خراش
یوں تو قفس میں اور گرفتار بہت ہیں
میر تقی میر