دل داغ ہورہا ہے چمن کے سبھائو سے

دیوان سوم غزل 1302
دن فصل گل کے اب کے بھی جاتے ہیں بائو سے
دل داغ ہورہا ہے چمن کے سبھائو سے
پہنچی نہ باس گل کی ہمارے مشام میں
یاں کھل رہے ہیں دیدئہ خوں بار گھائو سے
نامہ مرے عمل کا بھی اے کاش ساتھ جائے
جب آسمان لپٹیں گے کاغذ کے تائو سے
وارفتگان عشق بھی کیا طرفہ لوگ ہیں
دل کے گئے پہ دیتے ہیں جی کیسے چائو سے
کہتے تو کہیے بات کوئی دل کی میر سے
پر جی بہت ڈرے ہے انھوں کے چوائو سے
میر تقی میر